Category:1935 works
Appearance
Pages in category "1935 works"
The following 200 pages are in this category, out of 244 total.
(previous page) (next page)H
K
ا
- ابوالعلامعرّیؔ
- اثر کرے نہ کرے، سُن تو لے مِری فریاد
- اذان
- اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
- افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
- اقبالؔ نے کل اہلِ خیاباں کو سُنایا
- امینِ راز ہے مردانِ حُر کی درویشی
- اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
- اَلْاَرْضُ للہ!
- اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں
- اِبلیس کی عرضداشت
- اپنی جولاں گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں
- اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانی
- اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرا
- ایک نوجوان کے نام
ت
- تاتاری کا خواب
- تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیم
- تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
- ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے
- ترا تن رُوح سے ناآشنا ہے
- ترا جوہر ہے نُوری، پاک ہے تُو
- تری دنیا جہانِ مُرغ و ماہی
- تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہ
- ترے سِینے میں دَم ہے، دل نہیں ہے
- ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
- تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر
- تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیں
- تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی
ج
خ
- خانقاہ
- خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے
- خرد سے راہرو روشن بصر ہے
- خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے
- خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
- خودی
- خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
- خودی کی جلوَتوں میں مُصطفائی
- خودی کی خلوتوں میں گُم رہا مَیں
- خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیں
- خودی کے زور سے دُنیا پہ چھا جا
- خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل
- خوشحال خاںکی وصیّت
- خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
- خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
د
ر
س
ع
ف
م
- ماہرِ نفسیات سے
- متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی
- مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا
- محبت (شہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازی)
- محبّت کا جُنوں باقی نہیں ہے
- مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
- مسولینی (نُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ذوقِ انقلاب)
- مَسجدِقُرطُبہ
- مُلّا اور بہشت
- مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و عامی
- مِٹا دیا مرے ساقی نے عالمِ من و تو
- مکانی ہُوں کہ آزادِ مکاں ہُوں
- مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟
- میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف
- میری نوائے شوق سے شورِ حریمِ ذات میں
- مەسەلەی ویژدان
ن
- نادِر شاہ افغان
- نصیحت (بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقابِ سالخورد)
- نِگہ اُلجھی ہوئی ہے رنگ و بُو میں
- نپولین کے مزار پر
- نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
- نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہے
- نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
- نہ مومن ہے نہ مومن کی امیری
- نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں رہتا نہیں باقی
- نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازی